مہرخبررساں ايجنسي كے سياسي نامہ نگار كي رپورٹ كے مطابق وزارت خارجہ كے ترجمان حميد رضا آصفي نے اپني ہفتہ وار پريس كانفرنس ميں كہا كہ ايران كوامريكہ كے ساتھ مذاكرات ميں كوئي دلچسپي نہيں ہےانھوں نے كہا كہ ايران ہر حملے كا منہ توڑ جواب دےگا يورپ كے ساتھ مذاكرات ميں كوئي پيشگي شرط قبول نہيں كي جائے گي گزشتہ ہفتے يہ خبريں گرم تھيں كہ امريكہ نے عراق ميں امريكہ كے سفير زلمے خليل زاد كو ايران سے مذاكرات كا اختيار ديا ہےوزارت خارجہ كے ترجمان حميد رضا آصفي نے ان اطلاعات پر تبصرہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ ايران كا ايٹمي پروگرام ايران كا داخلي معاملہ ہے اور ايران كو اس پر امريكہ سے مذاكرات كرنے كي كوئي ضرورت نہيں ہےانھوں نے كہا كہ جہاں تك عراق كي صورت حال كا تعلق ہے تو عراقي عوام خود بالغ النظر لوگ ہيں اور وہ اپنے ملك اور حالات كے بارے ميں خود فيصلہ كر سكتے ہيں
آصفي نے كہا كہ ايران كاايٹمي پروگرام ايران كي داخلي سلامتي سے متعلق ہے اور اس پر امريكہ سے بات چيت كي كوئي ضرورت نہيں ہےاس كے علاوہ اس معاملے ميں امريكہ كي مداخلت نے پہلے ہي پيچيدگياں پيدا كر دي ہيں آصفي نے ايران اور يورپ كے مذاكرات كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ ہم مذاكرات ميں اپنے ملكي مفادات كو پيش نظر ركھيں گے اور ملك كے اندر ہي ايٹمي ايندھن كي تياري كے معاملے پر بات چيت ہو سكتي ہے كيونكہ يہ ہمارا حق ہے اور ہم اپنے حقوق كا بھر پور دفاع كريں گے
آپ کا تبصرہ